ابنا: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے تہران میں دہشت گردی کے خلاف دوسری عالمی کانفرنس کے موقع پر پریس ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض مغربی ممالک کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے اور انہیں پناہ دینے کی بنا پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ممالک پہلے دہشت گرد گروہ تشکیل دیتے ہیں اور پھراسلحہ فراہم کر کے انہیں مضبوط بناتے ہیں اور اس طرح دوسرے ممالک میں اپنی مستقل موجودگی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ دہشت گرد گروہ بعض علاقوں میں بدامنی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں تو توسیع پسند طاقتیں امن قائم کرنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بہانے ان علاقوں پر حملہ کر دیتی ہیں۔
انہوں نے افغانستان کو اس قسم کی پالیسیوں کا شکار پہلا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے دس سال پہلے القاعدہ کا مقابلہ کرنے کے بہانے افغانستان پر حملہ کیا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک اس ملک کے لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں، دہشت گردی میں اضافہ ہوا ۔اور افغانستان کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں مستقل اڈے قائم کرنے اور علاقے کے ملکوں کے امور میں مداخلت کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز